دنیا میں اکیلی آئی تھی اور اکیلی ہی چلی جاؤں گی۔۔ جانیے کینسر کو شکست دینے والی اداکارہ نادیہ جمیل نے کیسے اپنی زندگی کی کہانی بتائی؟

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں موجود ہر 9 خواتین میں سے 1 خاتون چھاتی کے کینسر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں چھاتی کے کینسر بڑھنے کی شرح ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

پاکستانی ڈامہ انڈسٹری کی مشہور اداکارہ نادیہ جمیل بھی چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوگئیں تھی۔ تاہم نادیہ جمیل ان لوگوں میں شامل ہیں جہنوں نے نہ صرف کینسر کے عرضے کو شکست دی۔ بلکہ اپنی مثال سے لوگوں میں شعور بھی اجاگر کیا۔

نادیہ جمیل کا نام پاکستان کی بہترین اداکارہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ 3 اپریل کو اداکارہ نادیہ جمیل نے ٹوئٹر کے ذریعے مداحوں کو بتایا کہ ان کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ گزشتہ ہفتے مجھے کینسر کی تصدیق ہوئی میرے علاج کو 4 دن گزر چکے ہیں، اور وہ اب کینسر پہلے سٹیج پر ہیں۔

ان کے مداحوں اور گھرلوں نے اس مشکل ترین سفر کے دوران ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ نادیہ نے اپنے حالیہ دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ کینسر کو ہارنے کے بعد، انہیں اب خوشی محسوس ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کینسر کی تشخیص ہونے سے پہلے میں اپنے آپ سے اتنی محبت نہیں کرتی تھی۔

ٹی پروگرام ہوسٹ اور حقوق نسواں کی کارکن منیبہ مزاری کے مطابق جب انہوں نے نادیہ جمیل سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تو انہیں نادیہ نے بتایا کہ ابھی وہ اسپتال جا رہی ہیں، اور اب ان کا علاج شروع ہونے والا ہے۔ منیبہ نے بتایا کہ نادیہ نے مجھ سے کہا کہ میرے لیے دعا کرنا، انہوں نے کہا کہ مجھے نادیہ میں ایک باہمت خاتون نظر آئی جو دنیا کے کسی بھی مشکل حالت سے باآسانی لڑ سکتی ہے۔

نادیہ جمیل نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ میں ہر وقت یہ سوچتی تھی کہ میں اکیلی ہوگئ ہوں، مگر مجھے معلوم تھا کہ خدا کی رحمت ہمیشہ میرے ساتھ ہے، اور وہی میری ہمت اور طاقت تھی۔

نادیہ کہتی ہیں کہ میرے والد کو بھی کینسر ہوا تھا، اور وہ تین مرتبہ کینسر کی بیمادی سے لڑے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میری دادی کو بھی کینسر ہوا تھا اور میرے دادا کا انتقال بھی کینسر سے ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کہیں نہ کہیں مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ مجھے کینسر ہوسکتا ہے۔ اور اس لیے میں اپنی صحت کے بارے میں فکر مند رہتی تھی۔ ایک دن مجھے انداز ہوا کہ میری چھاتی میں گانٹھ بن رہی ہے۔ جس کے بعد میں نے فوراً اپنا ٹیسٹ کروایا تو معلوم ہوا مجھے چھاتی کا کینسر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جب میں نے یہ بات سوشل میڈیا پر لوگوں کے ساتھ شیئر کی تو ہزاروں افراد نے مجھ سے رابط کیا۔ ان میں سے کئی افراد نے مجھے دعائیں دیں، اور کئیوں نے مجھے اپنے ساتھ گزارے ان مشکل ترین لمحوں کو میرے ساتھ شیئر کیا۔

نادیہ جمیل نے بتایا کہ مجھے اب میری آنکھیں خوبصورت لگتی ہیں، جن پر کینسر ہونے سے پہلے میں دھیان نہیں دیتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر نے مجھے ایک بات واضح کردی ہے کہ میں اکیلی ہی اس دنیا میں آئی تھی اور اکیلی اس دنیا سے رخصت ہوجاوں گی۔

 

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ہر سال اکتوبر کے مہینے کو چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ جہاں مختلف انداز میں لوگوں میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جاتا ہے۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.