مجھے نہیں پتہ کہ میرے والد زندہ بھی ہیں یا نہیں۔۔۔ شوبز اداکاراؤں کی اپنے باپ سے دوری

باپ ایک ایسی چھاؤں ہے جو بیٹیوں کے لئے ہمیشہ، ہر موسم میں تن کر کھڑا رہتا ہے لیکن کبھی کبھار کچھ باپ اپنا یہ مان کھو دیتے ہیں۔۔۔بیٹیوں کو باپ پر بڑا مان ہوتا ہے لیکن جب ان کا دل ٹوٹتا ہے تو پھر کبھی کبھار جڑ نہیں پاتا-
 فضا علی
 اداکارہ اور میزبان فضا علی لوگوں کے لئے بہت بولڈ اور بہت ہنستی مسکراتی شخصیت ہیں لیکن ان کے دل میں درد کا ایک طوفان بستا ہے۔۔۔ فضا نے ہمیشہ یہی بتایا کہ ان کے والد حیات نہیں ہیں۔۔۔لیکن پھر ایک انٹرویو نے تہلکہ مچادیا جس میں انہوں نے اپنے والد کی حقیقت بتائی۔۔۔ فضا کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میرا باپ زندہ ہے یا مر گیا۔۔۔ وہ میری ماں کو بہت مارتا تھا۔۔۔۔ کمانا اسے پسند نہیں تھا۔۔۔میں پیدا نہیں ہوئی تھی اور ماں کے پیٹ میں تھی جب بھی ابو نے امی کو اتنا مارا کہ ان کے دانت ٹوٹ کر حلق میں چلے گئے۔۔۔ وہ ایک ظالم انسان تھے جنہوں نے میری ماں کو بہت درد دیئے۔باپ تو ذمہ داریاں اٹھاتا ہے لیکن میرا باپ ہر ذمہ داری سے بھاگتا تھا۔۔۔ مجھے نفرت ہے اس انسان سے جس نے میرے دل سے باپ کی قدر ہی چھین لی۔۔۔
سونیا حسین
 سونیا حسین اپنے بچپن میں باپ سے بہت محبت کرتی تھیں لیکن پھر انہیں اس نام سے ایک عرصہ تک نفرت رہی․․․․یہ وہ دور تھا جب سونیا کے ابو نے دوسری شادی کی اور اپنے سگے بچوں کو دھتکار دیا۔۔۔ سونیا کا کہنا تھا کہ مجھے پہلی بار میرے باپ نے یہ احساس دلا یا کہ بیٹی ہونا اس معاشرے میں جرم ہے۔۔۔انہوں نے جب اپنی ماں کو تڑپتے دیکھا تو انہیں اپنے باپ سے نفرت محسوس ہوئی۔۔۔سونیا کا اپنا بھی سگا بھائی پیدا ہوچکا ہے لیکن ان کے دل سے وہ لمحات نہیں جاتے۔۔۔انہوں نے باپ کو گلے تو لگایا لیکن اپنے شکوؤں کو دور نہیں کرسکیں۔۔۔
ایمان علی
 ایک عرصہ تک ایمان علی نے اپنے باپ سے بات نہیں کی،۔۔۔یہ وہ دور تھا جب انہوں نے عابد علی مرحوم کو ایک دوسری عورت کی خاطر ماں اور بیٹیوں سے دور ہوتے دیکھا۔۔۔ایمان کیونکہ اپنے والد سے بہت پیار کرتی تھیں اس لئے یہ تکلیف ان کے اندر ایک طوفان لے آئی۔۔۔ عابد علی نے بھی کوششیں کرنا بند کردی تھیں۔۔۔لیکن پھر ایمان کی شادی سے پہلے معاملات صحیح ہوئے۔۔۔ ایمان علی بہت تکلیف میں تو ہیں باپ کے جانے سے لیکن ان کو درد بھی ہے اس بات کا کہ ان کے باپ نے ایک دوسری عورت کو دل میں جگہ دی۔۔۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *