میں بس کے لیے کھڑی تھی اچانک ایک آدمی آیا اور چھیڑنے لگا ۔۔ دن دیہاڑے مصروف ترین سڑکوں پر خواتین سے بدتمیزی کرنے والے مردوں کی کہانی جس نے سب کے دل دہلا دئیے

مینارِ پاکستان پر عائشہ اکرام کے ساتھ جو کچھ بھی واقعہ پیش آیا، اس کا چرچہ ہر جگہ کیا جا رہا ہے، لیکن کبھی اصل زندگی کی طرف ایک نظر دوڑائیں تو یہ روزمرہ کی کہانی بن گئی ہے کہ آئے روز سڑک پر کھڑی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے، ان کو تنگ کیا جاتا ہے، ایسے آفرز پیش کی جاتی ہیں جیسے وہ کسی کے گھر کی عزت نہیں بلکہ ان راہ گیروں کی کوئی جانشین ہیں جو ان کے انتظاروں میں سڑکوں پر کھڑی رہتی ہیں۔ حالانکہ بس کا انتظار کرنا ہو، یا رکشے کا، بس سٹاپ پر کھڑی ہوئی خواتین کو بھی لوگ تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔

ایسی ہی ایک کہانی ہم آپ کو بتا رہے ہیں، کراچی کی رہائشی سدرہ جو کالج، یونیورسٹی اور آفس جانے کے لئے پبلک بس میں سفر کرتی ہیں اور جب بھی سٹاپ پر جا کر کھڑی ہوتی ہیں، اکثر و بیشتر لوگ گاڑی روک کر ان کو یا تو لفٹ دینے کی آفر کرتے ہیں، یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتائیں ہم کردیں، جب یہ کہا جائے کہ نہیں ہمیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت نہیں ہے تو آگے سے جوابً کہا جاتا ہے اچھا آؤ چلو چائے کافی پیتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔ یہ صرف سدرہ کا ہی حال نہیں ہے بلکہ ان تمام خواتین کے ساتھ روزمرہ یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے جو بسوں میں سفر کرتی ہیں یا پیدل اکیلے اپنے کالج ، یونیورسٹی یا آفس جاتی ہیں۔

پھر کہا جاتا ہے کہ اکیلے کیوں جا رہی ہو؟ ارے جب گھر میں بھائی یا والد ساتھ لے جانے والے نہ ہوں کسی بھی وجہ سے تو کیا پھر وہ گھر کے باہر ہی نہ نکلیں؟ آخر کب ہمارا معاشرہ تبدیل ہوگا؟

بالکل اسی طرح کی ایک مچال نجی ٹی وی کی ہوسٹ نے دکھائی، جس نے خود ایک عام راہ گری بن کر سڑک پر بس کا انتظار کیا، اس دوران کئی لوگوں نے اس کو تنگ کیا، کوئی کہتا ہے آ جاؤ آگے تک چھوڑ دوں تو کسی نے کہا کہ ہم تو تمہاری خؤبصورتی کو دیکھ کر رک گئے،،، ارے یہ کیا مآجرہ ہے جناب؟ کیا ہمارا معاشرہ ان سب باتوں کو چھوڑ کر ہر دوسرے فرد کی حیثیت اور اہمیت کو اپنے گھر والوں کے برابر نہیں سمجھ سکتا؟ کہ اگر غیر لڑکی کی جگہ آپ کی اپنی ماں، بہن، بیٹی کھڑی ہوگی تو بھی آپ کا رویہ ایسا ہی ہوگا؟

ہمارے معاشرے میں کب تک خواتین، لڑکیاں، بچیاں یوں تنگ ہوتی رہیں گی؟ اگر یہی صورتحال چلتی رہی تو لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ جائیں گے، پھر عزت کے نام پر، غیرت کے نام پر ان کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ امن پسند معاشرہ ہے؟ کیا یہ وہ معاشرہ ہے جس کا خواب اقبال اور بنیاد قائد نے رکھی تھی؟ بالکل نہیں، پھر اگر ہم یہ کہیں کہ یہ تعلیم کا قصور ہے تو بالکل غلط، کیونکہ اکثڑ پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کام کرتے ہیں، جاہلوں کا تو صرف نام بدنام ہے۔ ہر پہلو کو دو طریقوں سے دیکھنے کی کوشش کریں۔

سڑک پر لڑکی صرف کھڑی ہوئی ہے آپ کو وہ کسی قسم کا کوئی اشارہ نہیں کر رہی اور نہ ہی اس نے آپ کو کہا کہ میری مدد کرو تو پھر رُک پر بحث و مباحثہ کرنا بالکل فضول ہے۔ ہر لڑکی اور عورت کو عزت دیں، جہاں وہ غلطی کریں اس کی نشاندہی بھی کریں۔ برابری و مساوات سے معاشرے ترقی پاتے ہیں، ورنہ ان کا انجام وہی ہوتا ہے جو قومِ عاد یا ثمود کا ہوا تھا۔

پھر آپ نے کچھ روز قبل ہونے والا وہ واقعہ بھی سنا کہ چنگچی میں بیٹھی ہوئی خواتین کے ساتھ ایک شخص گھٹیا حرکت کرکے چلا گیا، بعد میں اس کے خاکے بنے، لیکن موقع پر موجود ڈھیروں لوگوں نے اس شخص کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی، پکڑ کر مارا پیٹا نہیں، آخر کیوں؟ کیا ہم اپنی عدالت خود نہیں لگا سکتے ہیں؟

کچھ وقت قبل شاہراہِ فیصل پر جو کہ مصروف ترین شاہراہ ہے جہاں دن ہو یا رات ہزاروں لوگوں کا رش رہتا ہے، اس رش میں ایک آدمی جس کو پولیو کا مرض تھا، وہ بائیک پر بیٹھ کر آیا اور ڈھیروں لوگوں ، رکشے والوں کے درمیان کھڑے ہو کر لڑکی کو آنکھ مارنے لگا اور کہا مجھے جانتی ہو، میں وہی ہوں، تم بھول گئیں، جس پر لڑکی کے وہاں سے جانے کے بعد رکشے والے بھی مل کر اس کے ساتھ ہنسے۔۔ کیا مطلب تھا کیا وہ سب مل کر آپس میں ایک دوسرے کو جانتے تھے؟ جبکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ وہ لوگ اس سے سوال پوچھتے کہ کون ہو یا مسئلہ ہے۔ لیکن کیا ہمارے معاشرے میں ایسا کوئی اصول ہی نہ رہا کہ سوال پوچھا جائے یا ایسے لوگوں کو کڑی سزا دی جائے وہ بھی بیچ سڑک پر کہ اگلی مرتبہ ایسی حرکت کرنے کی ہمت کسی کی نہ ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *