آپ ابھی تک زندہ کیسے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر کی غفلت سے رحیم پردیسی کی بیگم موت کے منہ میں پہنچ گئیں

رحیم پردیسی اسکاٹ لینڈ کے مشہور یوٹیوبر ہیں جو مزاحیہ کانٹینٹ لکھنے کے علاوہ مزاحیہ وڈیوز بھی بناتے ہیں۔ خاص کر ان کا کردار “نسرین“ بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ رحیم پردیسی کی پہلی بیوی سمیرا سے تین بچے ہیں البتہ کچھ ذاتی وجوہات کی بناء پر رحیم کو سومیا سے دوسری شادی کرنی پڑی جس میں پہلے بچے کی پیدائش کے دوران ڈاکٹرز نے سومیا کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا
اس دوران ان کی گائناکولوجسٹ کا رویہ ان سے کافی نامناسب تھا اور بچے کے نارمل پیدا ہونے کے باوجود 5 مہینوں تک سومیا کی حالت خراب رہی۔ انھیں مسلسل پیٹ میں تکلیف اور بخار رہنے لگا بلآخر انھوں نے دوبارہ اسپتال سے رجوع کیا
ڈاکٹر کو سومیا کی حالت دیکھ کر چکر آگئے
دوبارہ اسپتال جانے پر ان کی ملاقات بحریہ اسپتال کی بہت سینئیر ڈاکٹر یاسمین سے ہوئی جنھوں نے سومیا کا اچھی طرح معائنہ کیا البتہ الٹرا ساؤنڈ دیکھ کر انھیں چکر آگئے اور انھوں نے سومیا سے سوال کیا “آپ ابھی تک زندہ کیسے ہیں؟“ تھوڑی دیر بعد ایک اور ڈاکٹر نے انھیں دیکھا اور وہ بھی حیران تھا کیونکہ سومیا کے پیٹ میں 5 اسفنج ان کی بچہ دانی سے لپٹے ہوئے موجود تھے جس کی وجہ سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھیں۔ یہ اسفنج وہ تھے جو ڈلیوری کے دوران ڈاکٹر نے سومیا کے اندر ہی چھوڑ دیئے تھے اور انھیں نکالنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی ۔ بعد میں ڈاکٹر کے ان اسفنجز کو نکالنے پر سومیا کو دوبارہ شدید تکلیف سے گزرنا پڑ
بحریہ اسپتال کی بے حس انتظامیہ
دوبارہ اسپتال جانے پر ان کی ملاقات بحریہ اسپتال کی بہت سینئیر ڈاکٹر یاسمین سے ہوئی جنھوں نے سومیا کا اچھی طرح معائنہ کیا البتہ الٹرا ساؤنڈ دیکھ کر انھیں چکر آگئے اور انھوں نے سومیا سے سوال کیا “آپ ابھی تک زندہ کیسے ہیں؟“ تھوڑی دیر بعد ایک اور ڈاکٹر نے انھیں دیکھا اور وہ بھی حیران تھا کیونکہ سومیا کے پیٹ میں 5 اسفنج ان کی بچہ دانی سے لپٹے ہوئے موجود تھے جس کی وجہ سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھیں۔ یہ اسفنج وہ تھے جو ڈلیوری کے دوران ڈاکٹر نے سومیا کے اندر ہی چھوڑ دیئے تھے اور انھیں نکالنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی ۔ بعد میں ڈاکٹر کے ان اسفنجز کو نکالنے پر سومیا کو دوبارہ شدید تکلیف سے گزرنا پڑا۔
بحریہ اسپتال کی بے حس انتظامیہ
سومیا اور رحیم کہتے ہیں کہ اس بات کی شکایت انھوں نے اسپتال کی وائس پریزیڈینٹ سے کی لیکن ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ انھوں نے رحیم اور سومیا کی بات کو کوئی بھی نوٹس نہ لیتے ہوئے انھیں کمرے سے باہر بھیج دیا۔
>
رحیم کے مطابق ان کی بیگم ابھی تک مکمل ٹھیک نہیں ہوسکی ہیں جبکہ سومیا کہتی ہیں ان کے جسم میں چار مختلف انفیکشنز بن چکے ہیں اور وہ نہیں جانتیں کہ وہ کیسے ٹھیک ہوں گی۔ سومیا اور رحیم اسپتال کے عملے کی شکایت کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے تو تکلیف سہی لیکن پھر بھی اللہ کے فضل سے وہ زندہ ہیں لیکن کتنی ہی ایسی مائیں اور نومولود بچے ہوتے ہوں گے جو ڈاکٹرز اور اسپتال کی غفلت سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہوں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.